ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھاالیکشن میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کتناممکن؟

لوک سبھاالیکشن میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کتناممکن؟

Tue, 19 Feb 2019 00:18:51    S.O. News Service

نئی دہلی، 18 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھامیں مسلمانوں کی کم نمائندگی پرتشویش ظاہرکی جاتی رہی ہے۔اس سے زیادہ کم مائیگی اورکیاہوسکتی ہے کہ543سیٹوں والی لوک سبھامیں صرف23ایم پی کامیاب ہوئے۔جب کہ 2009میں یہ تعداد30اور2004میں 34تھی۔مجموعی طورپر49مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ نمائندگی1980میں رہی۔80سیٹوں والی یوپی میں کانگریس،ایس پی ،بی ایس پی جیسی پارٹیوں سے ایک بھی مسلم امیدوارکامیاب نہیں ہوسکا،( ہاں ضمنی الیکشن میں راشٹریہ لوک دل سے بیگم تبسم حسن کوچندماہ قبل کامیابی ملی ہے)۔جب کہ 2009میں یوپی سے سلمان خورشید،محمداظہرالدین،ڈاکٹرشفیق الرحمن برق،ظفرعلی نقوی،قیصرجہاں،قادرراناجیسے سنیئرلیڈران نے فتح حاصل کی تھی۔گذشتہ الیکشن میں یوپی کے مقابلے چالیس لوک سبھاسیٹ والے بہارسے چارمسلمانوں کوکامیابی ملی۔مولانااسرارالحق قاسمی? ،تسلیم الدین مرحوم،طارق انوراورمحبوب علی قیصرنے لاج بچالی۔ان کے علاوہ کئی قدآورمسلم لیڈران وہاں موجودہیں۔اب جب کہ الیکشن آیاچاہتاہے،توتجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ کیوں نہ زیادہ سے زیادہ مسلم نمائندگی بڑھانے پرغورکیاجائے اورابھی سے ہی حکمت علمی طے کی جائے۔بہارکی مسلم نمائندگی پرنظرڈالی جائے توکانگریس سے طارق انوراورراجدکے ٹکٹ پرڈاکٹرتسلیم الدین کے فرزندسرفرازعالم کی نشست تقریباََطے مانی جارہی ہے۔اس درمیان اطلاعات یہ بھی ہیں کہ محبوب علی قیصرکانگریس یاراجدکے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں گے،اگرایساہوتاہے توان کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ان کے علاوہ بیگوسرائے سیتنویرحسن اورمدھوبنی سیٹ سے سابق مرکزی وزیرعلی اشرف فاطمی بھی اہم چہرے ہیں۔جب کہ مناظرحسن اور شہنوازحسین بالترتیب جدیواوربی جے پی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑسکتے ہیں۔ان کے علاوہ مولانااسرارالحق قاسمی? کی خالی نشست پربھی مسلم چہروں کی نظرہے،اگرکوئی مضبوط نمائندہ وہاں سے کامیاب ہوتاہے توایک حصولیابی ہوگی۔اس نشست پرایم آئی ایم سے اخترالایمان کی بھی دعویداری ہے لیکن پارٹی کیڈرکی کم موجودگی اورووٹ کی تقسیم کے خدشے کے پیش نظرشایدعوام محتاط رہے ،کیوں کہ کانگریس پوری مضبوطی کے ساتھ اس نشست پرالیکشن لڑناچاہتی ہے۔ایسے حالات میں ووٹوں کی تقسیم کاخدشہ بڑھ جاتاہے۔مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑنے کے ارادے سے کانگریس،مشہوراسلامی اسکالراورجواں سال ،متحرک عالم دین ڈاکٹرمفتی اعجازارشدقاسمی کوامیدواربناسکتی ہے ،گرچہ اس پارٹی سے کئی نام سامنے آرہے ہیں لیکن مقامی اطلاعات،کانگریسی ذرائع ،اخبارات کی نیوز اورگراؤنڈرپورٹ کے مطابق ڈاکٹرمفتی اعجازارشدقاسمی کی امیدواری طے مانی جارہی ہے اور پارٹی نے تقریباََہری جھنڈی دے دی ہے،علاقے میں ان کانام تیزی سے گردش میں ہے اورعوامی حمایت بھی مل رہی ہے۔ایساسمجھاجاتاہے کہ عالم (مولانااسرارالحق قاسمی رح)کی جگہ عالم کے مطالبے نے بھی فضاکوان کے حق میں کردیاہے۔اگرایساہوتاہے توبہارمیں مہاگٹھ بندھن سے طارق انور،سرفرازعالم،محبوب علی قیصر،علی اشرف فاطمی،مفتی اعجازارشدقاسمی،ڈاکٹرتنویرحسن سمیت چھ چہرے کامیاب ہوسکتے ہیں اورگذشتہ تعدادمیں اضافہ ہوسکتاہے۔اس لیے ان امیدواروں کی کامیابی کے لیے مضبوط حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں پانچ ہزارووٹوں سے شکست کھانے والے شہنوازحسین پھربھاگل پورسے امیدوارہوتے ہیں اورانہیں کامیابی مل جاتی ہے تویہ تعدادبڑھ سکتی ہے۔اسی طرح دوسری ریاستوں میں سیٹ درسیٹ مسلم نمائندگی بڑھانے پرغورکیاجائے اورمہاگٹھ بندھن کے مسلم امیدواروں کوکامیاب بنانے کی حکمت عملی بن جائے تولوک سبھامیں مسلم نمائندگی بڑھے گی۔اترپردیش کی اسی سیٹوں میں جن سیٹوں پرکانگریس یاایس پی ،بی ایس پی گٹھ بندھن کے مضبوط مسلم امیدوارہوں،انہیں کامیاب بنایاجائے۔ یوپی میں ووٹ کی تقسیم کابڑاخدشہ ہے۔کانگریس اترپردیش میں جتنی مضبوطی سے لڑے گی۔بی جے پی کواتناہی فائدہ ہوگا۔کانگریس کے لیے ،ایس پی ،بی ایس پی کے لیے اورخودملک کے لیے یہ بہترہوگاکہ کانگریس کم سے کم سیٹوں پرالیکشن لڑے۔اگروہ تیس سیٹوں کے اندرلڑتی ہے اورپچاس سیٹیں گٹھ بندھن کے لیے چھوڑدیتی ہے تونظارہ کچھ اورہوگااوراین ڈی اے کاساراکھیل بگڑجائے گاجس کاڈربی جے پی کو ہے۔خوش آئند اطلاع ہے کہ اکھلیش یادو اپنے اتحاد سے مزیدبارہ سیٹیں کانگریس کے لیے چھوڑناچاہتے ہیں ،مایاوتی اس فارمولے کو مان لیتی ہیں اورکانگریس اتحاد میں شامل ہوجاتی ہے تو بی جے پی کی کراری شکست یقینی ہے ۔پھربھی اگر یہ اتحادنہ ہوا،کانگریس زیادہ سیٹوں پرالیکشن لڑتی ہے اور مسلمانوں نے یہ حکمت عملی طے کردی کہ کانگریس کی وی آئی پی اورمسلم امیدواروں والی سیٹوں پرکانگریس کوووٹ دیاجائے ، باقی سیٹوں پرمہاگٹھ بندھن کوووٹ کیاجائے تو بھی بی جے پی کے لیے سرکار بنانا بہت مشکل ہوگا،اگرمسلمان یہ کام پورے منصوبے کے ساتھ کرلیں تومسلم نمائندگی بھی بڑھے گی اوراین ڈی اے کی واپسی تقریباََناممکن ہوگی۔


Share: